حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حلال اور صحت و سلامتی کے موضوع پر پہلی بین الاقوامی کانفرنس تہران کے سربراہی اجلاس ہال میں منعقد ہوئی۔ جس کا مقصد حلال اور صحت بخش مصنوعات و اشیاء کے شعبے میں ایران کے مقام کو فروغ دینا، اس کی صلاحیتوں اور کامیابیوں کو متعارف کرانا تھا۔ اس کانفرنس میں ملک کے مختلف ذمہ داران، علمی و فقہی ماہرین، پیداوار اور برآمدات کے شعبے سے وابستہ افراد اور اسلامی ممالک کے خصوصی مہمانوں نے شرکت کی۔
اس کانفرنس کے موقع پر آیت اللہ محمدجواد فاضل لنکرانی کا ویڈیو پیغام بھی شرکاء کے لیے نشر کیا گیا۔ جس میں انہوں نے حلال و حرام کی اہمیت، حلال مال کے اثرات اور خوراک و ادویات میں شرعی اصولوں کی پابندی کے حوالے سے اظہار خیال کیا۔
آیت اللہ فاضل لنکرانی کے اس پیغام کا متن حسبِ ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ الْحَمْدُلِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِینَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَی سَیِّدِنَا وَ نَبِیِّنَا أَبِی الْقَاسِمِ مُحَمَّدٍ، وَعَلَی آلِهِ الطَّیِّبِینَ الطَّاهِرِینَ الْمَعْصُومِینَ، سِیَّمَا بَقِیَّةِ اللَّهِ فِی الْأَرَضِینَ، وَلَعْنَةُ اللَّهِ عَلَی أَعْدَائِهِمْ أَجْمَعِینَ، مِنَ الْآنَ إِلَی قِیَامِ یَوْمِ الدِّینِ.
اس بین الاقوامی کانفرنس میں موجود معزز مہمانوں، اہلِ علم، دانشوروں، ماہرین اور ذمہ داران کی خدمت میں سلام عرض کرتا ہوں۔ اس کانفرنس میں شریک نہ ہو سکنے پر معذرت خواہ ہوں، تاہم چند اہم نکات آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں:
1۔ اسلام میں حلال کی اہمیت
اسلام نے حلال کے مسئلہ پر بہت زیادہ تاکید کی ہے۔ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر حلال اور حلال اشیاء کے استعمال کا ذکر کیا گیا ہے۔ سورۂ بقرہ کی آیت 168 میں ارشاد ہوتا ہے: «یَا أَیُّهَا النَّاسُ کُلُوا مِمَّا فِی الْأَرْضِ حَلَالًا طَیِّبًا» یعنی اے لوگو! زمین میں موجود حلال اور پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ۔
اسی طرح سورۂ مائدہ کی آیت 4 میں ارشاد ہے: «یَسْأَلُونَکَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ قُلْ أُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبَاتُ» یعنی لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لیے کیا چیزیں حلال کی گئی ہیں؟ کہہ دیجیے کہ تمہارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کی گئی ہیں۔
2۔ حلال اور طیب دو الگ عنوانات ہیں
ان آیات میں ہمیں دو اصطلاحات کا سامنا ہوتا ہے: ایک حلال اور دوسری طیّب۔ ان دونوں کے درمیان فرق کی وضاحت کے لیے گہرے تفسیری مباحث کی ضرورت ہے۔ مثلاً یہ سوال کہ کیا ہر حلال چیز طیب بھی ہوتی ہے جیسا کہ بعض افراد کا نظریہ ہے، یا یہ دونوں الگ الگ مفہوم رکھتے ہیں؟
حلال سے مراد وہ چیز ہے جو شرعی ضوابط کے مطابق جائز ہو۔ اس کا تعلق خوراک، لباس، ادویات اور حتیٰ کہ معاملات و تجارت سے بھی ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے: «أَحَلَّ اللَّهُ الْبَیْعَ» یعنی اللہ نے خرید و فروخت کو حلال قرار دیا ہے۔
اس کے مقابلے میں غیر شرعی اور حرام معاملات ہیں۔
جبکہ طیب کا مفہوم حلال سے بالاتر ہے۔ یعنی ایسی چیز جس میں حلال ہونے کے ساتھ پاکیزگی اور شائستگی کا ایک خاص وصف بھی موجود ہو۔
میری گزارش ہے کہ نظام اسلامی کے معزز ذمہ داران اس موضوع پر عوامی شعور بیدار کریں اور ملک میں ایک سنجیدہ تحریک شروع کریں۔ اسلام نے حلال کے مسئلے پر بہت تاکید کی ہے اور لوگوں کو اس کا پابند بنایا ہے۔
امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں: «عَلَیْکُمْ بِلُزُومِ الْحَلَالِ» ترجمہ: حلال کو لازم پکڑو اور اس کی پابندی کرو۔
انسان کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ جو مال کماتا ہے، وہ حلال ہے یا نہیں۔ اسی طرح جس مال کو استعمال کرتا ہے، جو غذا کھاتا ہے اور جو دوا استعمال کرتا ہے، اس کے حلال ہونے کے بارے میں بھی اسے آگاہ ہونا چاہیے۔
3۔ حلال و حرام کی حقیقت اور انسانی زندگی پر اس کے اثرات
ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ حلال ہونا کس چیز کی نشاندہی کرتا ہے؟ عام طور پر لوگ اس حقیقت سے واقف نہیں ہیں۔ حلال ہونا اس بات کی علامت ہے کہ کسی چیز میں کوئی خاص مصلحت اور فائدہ موجود ہے اور اگر کوئی چیز حرام قرار دی گئی ہے تو اس میں کوئی مفسدہ اور نقصان پایا جاتا ہے۔
حرام مال انسان کو خود اللہ تعالیٰ کے مقابل لا کھڑا کرتا ہے۔ اسی لیے واقعۂ کربلا میں امام حسین علیہ السلام نے دشمن کے لشکر سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ "تمہارے پیٹ حرام مال سے بھرے ہوئے ہیں"۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان حرام خوری کا عادی ہو جاتا ہے تو اس کی حالت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ وہ امام معصوم علیہ السلام اور آپ کی اولاد کو شہید کرنے پر بھی آمادہ ہو جاتا ہے۔ جب انسان سود خوری میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے چہ جائیکہ وہ ولیِ خدا کے مقابلے میں جنگ کرے۔ لہٰذا اس معاملے میں انتہائی احتیاط اور نگرانی کی ضرورت ہے۔ اسلامی جمہوری نظام میں یہ بات نہ ہمارے لیے قابل قبول ہے اور نہ ہی کسی دوسرے کے لیے کہ ذمہ داران اس اہم مسئلے سے لاتعلق رہیں، بالخصوص خوراک اور ادویات کے حوالے سے۔
آج بعض ادویات میں جیسا کہ معزز ڈاکٹروں کا کہنا ہے، شراب کی کچھ مقدار شامل ہوتی ہے۔ اس مسئلے کی حقیقت واضح ہونی چاہیے۔ البتہ اگر کسی وقت طبی ضرورت اس بات کی متقاضی ہو اور علاج کا انحصار ہی اسی دوا پر ہو اور اس کا کوئی متبادل موجود نہ ہو تو فقہ بھی اس کی اجازت دیتی ہے لیکن جب کوئی متبادل راستہ موجود ہو تو ایسی دوا کا استعمال کسی صورت جائز نہیں۔ امام جعفر صادق علیہ السلام نے ایک روایت میں فرمایا ہے: «إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَمْ یَجْعَلْ فِی الْحَرَامِ شِفَاءً» ترجمہ: بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ نے حرام چیز میں شفا قرار نہیں دی ہے۔ لہٰذا ہمیں ان حرام چیزوں کے استعمال سے اجتناب کرنا چاہیے۔
4۔ حوزہ علمیہ اور فقہی مراکز کا تعاون
آخر میں، میں مرکز تحقیقاتِ حلال، اس کے محترم سربراہ ڈاکٹر رستگار اور اس کانفرنس کے فقہی سیکریٹری حجۃ الاسلام ڈاکٹر مرادی کا شکریہ ادا کرتا ہوں، جو اس کانفرنس کے انعقاد کے ذمہ دار بھی ہیں۔
امید ہے کہ یہ کانفرنس انتہائی مفید اور مثبت نتائج کی حامل ثابت ہوگی۔
حوزہ علمیہ اور مرکز فقہی ائمہ اطہار (ع) اس سلسلے میں مکمل آمادگی رکھتے ہیں کہ حلال و حرام اور اس سے متعلق دیگر موضوعات پر جامع، مفصل، عملی اور مؤثر علمی مباحث تیار کرکے نظامِ صحت، وزارتِ صحت اور اسلامی جمہوریہ کے ذمہ داران کے سامنے پیش کریں۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ










آپ کا تبصرہ